درختاں تھلے
بابے بیٹھے
بخت اِنھا جگائے
درخت رحمتاں
درخت چھاواں
درخت انھاں دیاں ماواں
" آج اکھاں وارث شاہ نوں"
آج ایک دعوت پہ پاکپتن سے ملکہ ہانس جانے کا اتفاق ہوا، سلسلہ تو ایک سکول میں درخت لگانے کا تھا مگر من اصل میں مائل رہا کہ ہم اس مقام کے کتنا قریب آئے ہوے ہیں جہاں الله کے ایک بندے نے رشتوں اور سماجی میل جول اور انسان کے فطری انداز کو خوب جانا اور اسکو لکھنا جیسے اپنا مقصدِ حیات بنایا اور یہ انکو بخشش تھی اک عطا تھی، حضرت وارث شاہ رح نے ملکہ ہانس میں ایک چھوٹی سے مسجد کو اپنا مسکن مانا اور یہیں اپنی تصنیف "ہیر" لکھی. حضرت وارث شاہ کو جدید دور کی تعلیمات
"Cultural anthropologists"
بھی کہہ سکتی ہیں۔۔۔ انھوں نے تعلق، معاشرت، سیاست، مذہب، مذہب کے ٹھیکداروں، وقت کی حاکموں اور ان سب کا رھن سہن پہ قوی اثر دکھایا اور سمجھایا ... یہ تصانیف ہماری ثقافت کے صحیفے بن گئیں ہم کیسے تھے اور یہاں کی تہذیب کیا تھی ہم پہ خوب واضح کیا۔۔۔
ثقافت کی ان تحریروں میں اک بڑا خاصہ مقامات اور ان سے جُڑے فطری محرکات اور ارکان کا ہے جن سے رابطے اور لگن میں رہ کر انسان اپنی پہچان تک پہنچ جاتا ہے۔۔۔
آج ثقافت کے اس سارے قصے میں ہم بہت بڑا اہم رکن بھول گۓ ہیں، ہم ہمارے درخت بھول گئے ہیں...ہم اپنے مقامی درخت بھول گئے ہیں۔۔۔
زمین، دھرتی یا علاقے جن سے ہم نے اپنی ثقافت کو اپنایا ,اسکے موسموں کے تہوار مناتے ہیں, اک آدھا دن خوب علاقائی لباس پہن کر اپنی زمیں اور اپنے علاقے سے محبت جگاتے اور جتلاتے ہے کہ ہم یہاں سے ہیں ... مگر اپنی اسی زمیں اپنے اسی علاقے اور اپنے موسموں کے ساتھ رنگ بدلتے مقامی درختوں کو بھول گئے ہیں درخت جو علاقائی شاعروں اور صوفیوں کے گیتوں کے عنوان بنتے آے ہیں انکی بدلتی رتوں سے لیکر مکینوں کے بدلتے رویوں تک، جن کی گھنی چھائوں تلے ان بابوں، جوگیوں، سادھووں شاعروں اور صوفیوں نے نا صرف قیام کئیے بلکہ انکی تعریف میں خود کو انکے سامنے عاجز پایا۔ زمیں سے ان درختوں کے گھرے تعلق، ان پہ بیٹھے گیت گاتے پنچھیوں کو موسموں کی بدلتی رتوں کا امین پایا اور یوں ان ہی موضوعات کو اپنا سخن بنایا۔
۔۔۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم پنجاب کو وارث شاہ، بلھے شاہ، بابا فرید، میاں میر اور نانک کا تو کہیں۔۔۔ انکے گیتوں اور کہانیوں پہ ناز تو کریں اور یوں انہیں اپنی پہچان تو بنائیں مگر وہ گھنی چھاؤں وہ بدلتے موسموں کے پیغام بنتے بوڑہ ,پیپل، جامن، توت، گوندی، آم، کیکر اور نیم جیسے کئی کردار ساز درختوں کا ذکر کرنا بھول جائیں ... انکی آبیاری کو ترک کر بیٹھیں۔۔۔
گھنی چھاؤں والی ٹہنیاں, نا نظر آنے والی مضبوط جڑیں اور مضبوط تنے جو زمین سے نکل کر اتنا بوجھ اٹھاتے کہ کسی کو احساس بھی نہ ہونے دیں... یہ سب فطرت کے استعارے ان بزرگوں کو خوب سیر کرتے ہونگے ثقافت کے علمردار یہ درخت یہ فطرت کے حسین عکاس یہ صوفیوں کے مسکن اب ناپید ہوتے جا رہے۔۔۔
یوں ہم سب صرف درخت نہیں بھول رہے بلکہ ہم زمین سے جڑے اپنے گھنے اور مضبوط تعلق کو بھول رہے ہیں۔
بے ربط، بے نشاں اور بے راہ انسان کسی کی منزل نہیں بن پاتے۔۔۔ سہولت اور آرائش کی چکا چوند نے نا جانے کتنے لوگ بھٹکا دئے ۔۔۔ ترقی صرف اقدار کی ہوتی اور باقی سب سہولیات کا بازار ہے۔۔۔
#TheTravelDays
#zaheerChaudhry