Showing posts with label اردو شاعری. Show all posts
Showing posts with label اردو شاعری. Show all posts

تیری یاد کے سوا کچھ یاد نہیں

 تیری یاد کے سوا کچھ یاد نہیں

میں لامکاں کب سے کچھ یاد نہیں
روابط خاموشی کی زدّ میں ہیں
قیامِ خاموشی کب سے یاد نہیں

پرزّم سے مشروط منشور


 

پرزّم سے مشروط منشور۔

یہ رنگین مسجد میرے بچپن میں بس اک سفیدی کئے ہوئے کمرے کی مسجد تھی، ڈیڑہ دو فٹ اونچی ایک اینٹ کی دیوار والا چھوٹا سا اینٹوں والا صحن اور اِسی بُڑھے برگد کی چھاؤں سے پانی ٹھنڈا کرتی، سِکھ دور سے بنے اک گول تھڑے کے اونچا کُھرے میں لگی صرف ایک پیتل کی ٹوٹی ہوا کرتی تھی، جب کسی کو پیاس لگتی تو گویا سب کو لگ جاتی۔ ہم پرندوں کے جھنڈ کی مانند پہلی باری کا مقصد لیے بھاگتے اور بڑے پہلے پہنچ جاتے مگر پھر بھی چھوٹوں کے پہنچنے کا انتظار ہوتا اور پہلے پانی پینے کیلئے انہیں ہی آگے کیا جاتا، "پہل اور اپنی باری کا انتظار" اس تمام میں یہ درس پنہاں تھا۔
پاکپتن کے انگریز دور کے اس ریلوے لوکو شیڈ کے سامنے دو چھوٹی چھوٹی گھنی گھاس کی، اک تکونی اور اک مستطیلی میدان ہمارے کھیلنے اور کام شام کرنے کا ڈیرہ ہوتیں اور خاص طور پر مستطیلی میدان کیوں کہ گھنا، بڑا اور پرندوں کی آوازوں اور گُلہریوں سے بھرا برگد کا پیڑ اسکی آخری نکڑ میں ہوتے ہوئے بھی سارے میدان کا احاطہ اپنی چھاؤں سے کرتا۔
ہم گرمیوں کی چھٹیوں میں یہاں آکر خوب کھیلتے، پوری پوری کتابوں کو لکھ کر لانے والے چھٹیوں کے اُس کام کو بھی بخوبی کرتے۔
دوپہر کو آنے والی لمبی سمّہ سٹھّہ ایکسپریس ڈائون کے لاہور سے آنے اور سمّہ سٹھّہ جانے کے اوقات پر کام چھوڑ دیے جاتے جیسے یہ کام کاج اور پڑھائی کوئی فارغ اوقات کے مشغلے ہوں اور اصل کام اب سے شروع ہونا ہو۔
من سے دیکھی درینہ دوست جیسی، جسکو سمجھتے وقت کو بھی صدیوں کے دوراہوں سے گزرنا پڑتا، ابھی تک نا نظر والی، دُور سے آتی گاڑی کی لمبی سیٹی اک استدعا بن کر پھاٹک والے تک آتی، پھاٹک وقت پہ بند ہوتا اور اس سے دائیں اور بائیں، دربار بابا فرید، غلہ منڈی سے کچھری، فرید نگر، کینال کالونی اور شہر کے باھر سے آتے جاتے تانگوں، گدھا گاڑیوں، ٹریکٹر ٹرالیوں اور سائیکلوں سے بھر جاتے۔ گاڑی اسٹیشن کے پاس والے اُس پھاٹک کو کراس کرتی اور اسکی دوسری قدرِ مختلف سیٹی کی آواز قریب والوں کیلئے با خبر کرنے اور نوید کی صدا ہوتی، استدعا سے صدا کا یہ سفر محظ لمحوں کا ہوتا۔
اسٹیشن پہ موجود ہر مسافر، اسٹیشن کا عملا، نارنجی کُرتوں والے کُلیّوں، ڈھابے والے ھاکروں اور ہماری طرف سے پہلے توجہ طلب، سرخ اور سبز تکونی جھنڈیاں لیئے سفید یونیفارم والے انکل، جنکی دو رنگوں والی جھنڈیوں کو کب کب اور ٹرین کے کہاں تک آنے پہ لہرایاجانا ہے یہ ہم بھی سیکھ چکے تھے، گویا یہ تھا " "استدعا سے صدا" اور "اک اشارے پہ تعمیل کا سبق"، گاڑی کو چند قوس دور سے اسٹیشن پہ آتے، رُکرتے اور پھر سیٹی کی آواز اور گاڑی کے دوبارہ چلنے کے اوقات کا احاطہ کرنا سب اس غیر درج، غیر رسمی اور بنا امتحانی سلیبس کا حصہ تھے۔
جہاں ہم بیٹھے ہوئے ہوتے وہیں قریب وہ مقام تھا جہاں ٹرین اسٹیشن والی پٹڑی چھوڑ کر مین ٹریک پہ آتی، ہم بچپن سے جیسے "ٹریک اور آف دی ٹریک تھیوری" سیکھ رھے تھے۔
لاھور اور سمّہ سٹھّہ کے بیچ پاکپتن سب سے بڑی لوکو موٹر شیڈ تھا، ٹرین سے علیحدہ ہو کر تھکا انجن یہاں اپنے روز کے سفر کی ضروری دیکھ بھال کیلئے آتے، انجن کو شیڈ تک آنے کیلئے اک چھوٹا تکونا سفر کرنا پڑتا، اسٹیشن والی لائین بدل کر شیڈ والی لائین تک ڈرائیور کو دیکھائی جانے والی تمام لال اور ھری تکونی جھنڈیاں کب اور کہاں لہرائی جائیں گی یہ سب ہم کو بھی یاد تھا۔
مسجد کے اس پار انجن اور ہم، اک ساتھ شیڈ پہ پہنچ جاتے اس دوران بچوں کو شیڈ کے عین نیچے جانے کی اجازت نا ہوتی ہم اپنے بستے، کھلی کتابیں، کاپیاں اور امی کے ہاتھ کے سلے موٹی کدوئی والے پیپروں کے دستے سب وہیں کٌھلے چھوڑ کر انجن سے اسکے سفر کا حال احوال کرنے پہنچ جاتے، اسکی آپ بیتی ہمیں اسکی مختلف آوازوں، ڈرائیور اور شیڈ انجنیئرز کی باہمی گفتگو سے معلوم ہوتی۔
ہم بڑے خوش قسمت رہے اپنے سکول دور میں کالا انجن یعنی بھاپ والا انجن اور تیز چلنے والا یعنی ڈیزل انجن کے مابین ریلوے لائنوں پہ معرکہ آرائی کے آخری دور کے گواہ بھی رہے، اگر بھاپ والے انجن کے ساتھ ہمارا دل ھانپتنا تو دماغ تیز چلنے والے انجن کیساتھ چلتا۔
اور ہم نے دیکھا کہ دل کا یہ سفر تو مقفل ہو چکا ۔۔۔
ھانپتے تھکے انجن کی تین چار جگہوں سے نکلتیں سفید دودھیا بھاپ سیٹیوں سی آوازوں سے بھی دل پزیری کرتیں گویا ہم گرمیوں کی ان چھٹیوں میں موسیقی کا اک چھوٹا سیشن بھی لیتے تھے۔
ہمیں ٹھیک سے معلوم تو نا تھا مگر شیڈ کے اس قلیل دور میں انجن نیچے سے کیسا ہوتا یہ ہم دور سے نیچے بیٹھ کر ہر ممکن کوشش کرتے، ڈرائیو اور انجنیئرز کی آدھ سنی باتوں سے جیسے بہت کچھ جان لیتے تھے، اک رخ دوسرے رخ سے کتنا وابستہ ہے اور اس بھاری وجود کے اندر کی کہانی تشخیصی انداز میں ہمارے ابہام تک پہنچتی، گویا ہم "کیفیات" سیکھ رہے تھے۔
انجن، ڈرائیور انجینئر اور ہم معلومات کی یہ تکون تھی یا بچپن کی ان محبتوں کو دوام دیتا، یاداشتوں کو مستقبل پہ کہیں منعکس کرتا پرزم، گویا اسکی تمام تر روشنیوں کا احاطہ تب ممکن نا تھا۔
ہم اور انجن اپنی اس تشخیص اور تربیت گاہ سے اکھٹے رخصت لیتے، انجن پھر تکونا سفر کرکے سمّہ سٹھّہ ایکسپریس کے آگے جُت جاتا، پہلی سیٹی نا صرف اسکا ارادہِ سفر ہوتی بلکہ اسٹیشن پہ موجود ہر ذی روح اسکی اِس کیفیت میں شامل ہو جاتی، وقتی احساس کے حامل تمام چِند پرند اسکی دوسری سیٹی اور پہلی جنبش سے اسکے سفر میں کبھی شامل نا ہوتے، چوپائے بھاگ جاتے اور پکھی اڑ جاتے، گاڑی مین ٹریک پہ آتی اور ہر بوگی کا اک اک پہیہ ہماری نگرانی میں ایک سے دوسری پٹڑی پہ کسی پکے اور بندھے ہوے راگ پہ کتھک کرتے قدم رکھتا اور یوں ساری ٹرین بل کھاتی گزر جاتی، گویا رقص اور سٌر ہمکنار ہوے، مزید کہ کھڑکیوں اور دروازوں پہ موجود مسکرا کر ہاتھ ہلاتے اور اللہ حافظ کرتے مسافر جسے ہمارے ہی لیے اس طرف اُمڈ اے ہوں۔
گاڑی کے جانے کے بعد تک اسکے اثر میں رھنا گویا سبق کو پکانا تھا اور یہ سبق آج بھی یاد ہے۔
مسجد والی ٹوٹی سے ہاتھوں کی بُک بنا کر خوب سارا پانی پینا اور کبھی کبھار یہاں ظہر کی نماز بھی پڑھنا، مجھے یاد ہے یہاں کچھ عصر کی آزانیں بھی دی ہوئیں ہیں اور جماعت کیلئے کسی بزرگ کے آنے کا تقوع بھی ظہور پذیر ہوتا دیکھا ہے۔
ہمارے گھر سے کوئی دس منٹ کی دوری پہ یہ مقامِ تدریس و تحقیق آج بھی قائم ہے، یہ درسگاہ اب یاداشتوں کی درگاہ بن چکی اور اس درگاہ کی زیارت کا سفر ابھی تک رائج ہے۔
کئی نسلوں سے آباد گُلہریوں کا اپنی فطرت سے بھاگ کر بُڈھے برگد پہ چڑھنا اور بار بار رک کر پلٹ کر اور سیٹیاں بجا کر درگاہ کے مجاوروں اور مسافروں کا فرق بتانا ابھی تک قائم ہے۔

یہ میری بلا سے کہ تو مجھے میرا حق نا دے

 یہ میری بلا سے کہ تو مجھے میرا حق نا دے

یہ میرا حق ہے, اس پہ تجھے کوئی گلہ تو نہیں

صحرا اب سے ذرّہ ذرّہ ہو کر ملا کر مجھے

 صحرا اب سے ذرّہ ذرّہ ہو کر ملا کر مجھے

یوں ہوگی تیری وسعت سے شناسائ مجھے

دونوں جانب موجودگی

 دونوں جانب موجودگی -  درمیاں مقیم اک دستک

پہلے عادی تھا اب طالب ہوں

 پہلے عادی تھا اب طالب ہوں  

پہلے نظر تھا اب چشم ہوں 

کمال ہیں تمام اسباب آگہی کہ  

پہلے راہ تھا اب سماں ہوں

اکیلے تو جو ھجر اٹھائے پھرتا ہے

 اکیلے تو جو ھجر اٹھائے پھرتا ہے

ساتھ چلتے ہیں, بانٹ لیتے ہیں

بس تصویر کو بولنے دو

 بس تصویر کو بولنے دو

اسے اپنی دلیل بننے دو
دیباچه، کہانی اورانجام

سب اسے آشکار کرنے دو

من مائل

 من مائل تو تن گھائل

تن مائل تو من گھائل

حسن کو دیکھیے کہ کیا غضب ڈھاوے ہے

 حسن کو دیکھیے کہ کیا غضب ڈھاوے ہے 

ہے میری جان پہ بنی اور انکو مزہ آوے ہے 

یہ تکلف بھی نہ برتے کہ بھری محفل ہے 

ساتھ بیٹھا رقیب کہ اسکو بھی منہ لگاوے ہے

تصویر دعا ہے

 بیتے لمحوں کی

گزرے راہوں کی

ان سنی سی

ان کہی سی

مقفل پڑی ہیں 

ھزار کہانیاں

پرانی تصویریں

چہرے یا افسانے

آنکھیں یا سراب سرائے

دوری میں لمس کا احساس 

آوازوں کا ہجوم 

راستوں کی پکار

تصویروں سے آوازیں آتیں ہیں

تصویر فریاد ہے

تصویر یاد ہے

تصویر دعا ہے

دعا بیتے لمحوں کی

دعا گلیوں کی رونق کی

آو ہاتھ اٹھائیں 

آو تصویر دکھائیں 

تصویر بیتے لمحوں کی

تصویر گلیوں کی رونق کی

  

Knocking At Windows

Online photography exhibitions 

#socialdistancing

تیری زیروزبر نے

 تیری زیروزبر نے یوں بڑھا دیا بیان میرا

وگرنہ میرے قصے میں تھا بس وہم میرا

تیرے خط جلا چکا

 تیرے خط جلا چکا

میرے پر جلا چکا

فقط آسمان باقی اب

زمین کے در بھلا چکا

نفرتوں پر یقین رکھتے ہیں، ٹھیک مرتے ہیں ھم

 نفرتوں پر یقین رکھتے ہیں، ٹھیک مرتے ہیں ھم

جہاں آدم جانا جاۓ، در کو دھرم لکھتے ہیں ھم

عداۓ سازش و مرھم ک یقین سے

دمادم مست بین، مسجد میں اعلان کرتے ہیں ھم

تیری یاد کے سوا کچھ یاد نہیں

 تیری یاد  کے سوا کچھ  یاد نہیں 

میں لامکاں کب سے کچھ یاد نہیں 

روابط  خاموشی کی زدّ میں ہیں 

 قیامِ خاموشی  کب سے یاد نہیں

یہ میری بلا سے

 یہ میری بلا سے کہ تو مجھے میرا حق نا دے

یہ میرا حق ہے, اس پہ تجھے کوئی گلہ تو نہیں

اب کس بستی میں پیار ہوا ہے

 اب کس بستی میں پیار ہوا ہے

 ویرانوں کو اُداسی کا خمار ہوا ہے

شام ڈھلے جو آجاتی ہے آگہی 

اندھیرے نے پیغمبری کا کام کیا ہے

عتیق بیان

 بن کہا لفظ عتیق بیاں سے نکلا ہے  

عداؤں سے رفاقتوں کا بیان لگتا ہے 

گنگنائیں تو خوب گراں گزرتا ہے  

مانوس ہے مگر نالاں سا لگتا ہے

اُس شب

 اُس شب

آئینے کے روبرو

جو تھا، میں تھا

وگرنہ

سامنے کی آہنی دیوار پہ

تصویر تک نا تھی

ابھی زمانے کی روداد باقی ہے

 ابھی زمانے کی روداد باقی ہے
ابھی سماعت پہ دستک باقی ہے
ہم جو خاموش گلیاں گزر آے
ابھی ان میں بازگشت باقی ہے

2, Photographer's Statement

PHOTOGRAPHER'S STATEMENT Every image begins with an act of attention. My photographic practice has grown from a lifelong curiosity a...