تیری یاد کے سوا کچھ یاد نہیں
تیری یاد کے سوا کچھ یاد نہیں
پرزّم سے مشروط منشور
پرزّم سے مشروط منشور۔
یہ میری بلا سے کہ تو مجھے میرا حق نا دے
یہ میری بلا سے کہ تو مجھے میرا حق نا دے
صحرا اب سے ذرّہ ذرّہ ہو کر ملا کر مجھے
صحرا اب سے ذرّہ ذرّہ ہو کر ملا کر مجھے
یوں ہوگی تیری وسعت سے شناسائ مجھے
پہلے عادی تھا اب طالب ہوں
پہلے عادی تھا اب طالب ہوں
پہلے نظر تھا اب چشم ہوں
کمال ہیں تمام اسباب آگہی کہ
پہلے راہ تھا اب سماں ہوں
اکیلے تو جو ھجر اٹھائے پھرتا ہے
اکیلے تو جو ھجر اٹھائے پھرتا ہے
ساتھ چلتے ہیں, بانٹ لیتے ہیں
بس تصویر کو بولنے دو
بس تصویر کو بولنے دو
حسن کو دیکھیے کہ کیا غضب ڈھاوے ہے
حسن کو دیکھیے کہ کیا غضب ڈھاوے ہے
ہے میری جان پہ بنی اور انکو مزہ آوے ہے
یہ تکلف بھی نہ برتے کہ بھری محفل ہے
ساتھ بیٹھا رقیب کہ اسکو بھی منہ لگاوے ہے
تصویر دعا ہے
بیتے لمحوں کی
گزرے راہوں کی
ان سنی سی
ان کہی سی
مقفل پڑی ہیں
ھزار کہانیاں
پرانی تصویریں
چہرے یا افسانے
آنکھیں یا سراب سرائے
دوری میں لمس کا احساس
آوازوں کا ہجوم
راستوں کی پکار
تصویروں سے آوازیں آتیں ہیں
تصویر فریاد ہے
تصویر یاد ہے
تصویر دعا ہے
دعا بیتے لمحوں کی
دعا گلیوں کی رونق کی
آو ہاتھ اٹھائیں
آو تصویر دکھائیں
تصویر بیتے لمحوں کی
تصویر گلیوں کی رونق کی
Knocking At Windows
Online photography exhibitions
#socialdistancing
تیری زیروزبر نے
تیری زیروزبر نے یوں بڑھا دیا بیان میرا
وگرنہ میرے قصے میں تھا بس وہم میرا
تیرے خط جلا چکا
تیرے خط جلا چکا
میرے پر جلا چکا
فقط آسمان باقی اب
زمین کے در بھلا چکا
نفرتوں پر یقین رکھتے ہیں، ٹھیک مرتے ہیں ھم
نفرتوں پر یقین رکھتے ہیں، ٹھیک مرتے ہیں ھم
جہاں آدم جانا جاۓ، در کو دھرم لکھتے ہیں ھم
عداۓ سازش و مرھم ک یقین سے
دمادم مست بین، مسجد میں اعلان کرتے ہیں ھم
تیری یاد کے سوا کچھ یاد نہیں
تیری یاد کے سوا کچھ یاد نہیں
میں لامکاں کب سے کچھ یاد نہیں
روابط خاموشی کی زدّ میں ہیں
قیامِ خاموشی کب سے یاد نہیں
یہ میری بلا سے
یہ میری بلا سے کہ تو مجھے میرا حق نا دے
یہ میرا حق ہے, اس پہ تجھے کوئی گلہ تو نہیں
اب کس بستی میں پیار ہوا ہے
اب کس بستی میں پیار ہوا ہے
ویرانوں کو اُداسی کا خمار ہوا ہے
شام ڈھلے جو آجاتی ہے آگہی
اندھیرے نے پیغمبری کا کام کیا ہے
عتیق بیان
بن کہا لفظ عتیق بیاں سے نکلا ہے
عداؤں سے رفاقتوں کا بیان لگتا ہے
گنگنائیں تو خوب گراں گزرتا ہے
مانوس ہے مگر نالاں سا لگتا ہے
اُس شب
اُس شب
آئینے کے روبرو
جو تھا، میں تھا
ابھی زمانے کی روداد باقی ہے
-
I'm searching through subjects like this. Even though I may not fully grasp the science, I understand them metaphorically . link They ...
-
تھم جا اے وقتِ نگر کہ تمام ہو رقعتِ سفر جمالِ زمیں ہے راکاپوش وہ غزل ہے استراحت و نظر ظہیر چوھدری
-
If we take a picture of the same fruit or vegetable shop every two months, we realize how colorful our lives are and how beautifully our e...
-
یہ میری بلا سے کہ تو مجھے میرا حق نا دے یہ میرا حق ہے, اس پہ تجھے کوئی گلہ تو نہیں
-
Bricks themselves seem to hum with the echoes of Hindu epics and mythology. A striking house facade stands as a testament to this legacy, ...
-
The National College of Arts (NCA) has kicked off its 150th-anniversary celebrations with the sculpture exhibition "Under the Sun,...
-
Marvels of Life: Across the vast timeline of South Asian history, the land now known as Pakistan cradles some of the earliest marvels of hum...
-
The Valley That Breathes: When Beauty Becomes a Battleground The Valley That Breathes: When Beauty Becomes a Battleground Nestled deep withi...
-
When Reverence Turns Into Ruin: A Visit to Cave Hira By Zaheer Chaudhry I recently had the chance to visit Cave Hira , a place etched into ...
-
A Familiar Geometry: The Six-Sided Star Window in Pakistan’s Urban Fabric By Zaheer Chaudhry Story covered 2021 This morning in Pakpattan...
2, Photographer's Statement
PHOTOGRAPHER'S STATEMENT Every image begins with an act of attention. My photographic practice has grown from a lifelong curiosity a...
