"گر آغوشِ تنہائی تو نُورِ بَر آمد است"۔
یہی حاصل رھا تیرے کھوجیوں کو
۔۔۔ غٌند، افغانستان سے آئے محمد باقر جنہیں انکے پیروکار آج باباِ غّندی کے نام سے پکارتے ہیں، انکی تبلیغِ اسلام کا سفر افغانستان سے نگر اور ہنزہ تک رھا، پھر محمد باقر رح نے اس جگہ اپنا ہجرہ قائم کیا اور اسلام کی تعلیم و تبلیغ میں رہے، جو آج زائرین کی مَنت و حاجات کا مرکز بنا ہوا ہے۔
بہت سارے لوگوں کو تو یہ بھی معلوم نہیں کی محمد باقر کی تدفین یہاں نہیں افغانستان میں ہوئی۔
انکے ساتھ منصوب بہت سی کہانیاں ایسی بھی جن میں وہ اللہ کے ولی نہیں بلکہ جلالی حاکم ہوں اور انکے رویوں میں بدعا زیادہ با اثر رھی ہو جبکہ قوی امکان یہی ہے کہ انسان کی جبلت میں اگرچہ خوف سے متاثر ہونا زیادہ رھا ہے سو ایسی کہانیاں جن میں بستیاں بہا دی گئیں ہوں اور ظالم جن، جو بچوں کو کھا جاتا تھا اسکا یہ اثر آج بھی قائم ہے۔
کسی بھی اللہ کے ولی کی جنہیں ہم علاقائی تعظیم میں بابا کہتے ہیں، خدا شناسی اور خود شناسی کی تعلیم سے ہٹ کر توہمات اور علاقائی رویوں سے لبریز عقائد کی نظر کر چکے۔۔۔
#TheTravelDays #zaheerchaudhry