حسرتوں میں نہ جانے کب سے یہ سمایا تھا
یہ خط جو آج خود سے میں نے لکھوایا تھا
سانو لگ گئی تلے دے تار وے
آساں جڈ گۓ تیرے جو نال وے
حسرتوں میں نہ جانے کب سے یہ سمایا تھا
PHOTOGRAPHER'S STATEMENT Every image begins with an act of attention. My photographic practice has grown from a lifelong curiosity a...