ترے ناں تے میرے سونیا وے

 ترے ناں تے میرے سونیا وے

میرا دل دھڑکے - میرا دل دھڑکے


نۓ عیسوی سال کے ٹھیک چوتھے دن صبح سویرے ہمارے عیسائی پاکستانی بہن بھائی اپنی صفائی کرنے کی  ذمداری پہ نظر آے گو کہ آج سنڈے تھا انکی عبادات کا دن مگر ١٢ ربیع اول ہماری عام تعطیل اور انکے کام کرنے  دن تھا، ان محنت اور صفائی کرنے والے لوگوں تک الله کہ آخری نبی کے وارثوں ںے رحمت لالعالمینﷺ کا ثمر ابھی ان تک نہیں پہنچایا تھا. 

یہ کوئی مذہبی ذمداری ہوتی تو شاید شہر بھر کا ہمارا اپنا گند ہم خود صاف کرتے یا پھر٢٥ دسمبرکو الله کے اک اور نبیؑ کی پیدائش والے دن ہم اپنے شہروں کے صفائی نہ سہی  ہمارے عیسائی پاکستانی بہن بھائی کی تنگ گلیوں والوں محلوں میں جا کرہی صفائی کرتے ... خیر سردیوں کی ٹھنڈ اور دھند میں یہ لوگ مسلمانوں کی فجر کی نماز سے بھی پہلے اپنے کام پہ موجود تھے ... سڑکوں اور ملحقہ گلیوں کی صفائی اور پھر دھلائی کا کم چلتا رہا اور دوسرا مرحلہ چونے سے تزئین و آرائش کا  شروع ہوا، تین پہیوں والی ریھڈی میں چونا لیے اگر مرد ریھڈی چلاتا تو عورت راستوں پہ چونے سے پھول پتے بناتی اور اگر عورت ریھڈی چلاتی تو مرد سیدھی لمبی لمبی لائنیں لگاتا ...  دستانوں کے بنا چونے میں انکے کالے صفائی کرتے مقدس ہاتھ سفید چونے والی ریھڈی سے زمین تک اس طرح جڑ کہ آتے جسے دعاؤں والے خالی ہاتھ جڑ کر آسمان کی طرف  جاتے ... یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا اور دیکھتے ہی دیکھتے راستوں میں لوگوں کی تعداد بڑھنے لگی لوگوں کو صبح سویرے یہ تبدیل منظر بھلا لگا اور چہروں پر اسکے نمایاں اثرات دیکھے جا سکتے تھے خاص طور پر بچے شہر کو صاف اور آراستہ دیکھ کرخوب خوش تھے ... گھروں میں ناشتون اور خوشبوؤں کا سلسلہ شروع ہوا، دکانیں بند تھیں سو گھروں سے  حلوہ اور پراٹھوں کے سلسلے ... دن نکلتا گیا روشنی دھند میں بڑھتی رہی اور دھند چھٹ گئی ... بازار میں چھوٹے چھوٹے ١٢ ربیع اول کے جلوس شروع ہوے اور گہما گہمی تیز ہوتی گئی، انڈین گانوں کی دھنوں پر بننے والے ترانے، نعتیں اور نعروں سے ماحول کو خوب ترڈکا لگا 

ترے ناں تے میرے سونیا وے

میرا دل دھڑکے - میرا دل دھڑکے

عربوں کے دبئی میں فلمایا گیا دپیکا کا گانا بھلا کیوں نہ یاد آتا چاہے لمحہ بھر کو ہی سہی ... اتنے میں دیکھتے ہی دیکھتے شہر کا بڑا مرقضی جلوس برآمد ہوا جسکی سرداری عرب لباس پہنےاور ہاتھ میں تلواریں لیے بچے کر رہے تھے اب بھلا دپیکا یہاں کب تک ٹھرتی ... خوب بھرا جلوس، سبز رنگ خاصا نمایاں اور قدر اونچا بھی تھا جھنڈوں اور بینروں پہ کلمات اور علامات  درج ... دوسرا خاص رنگ سنہرا تھا الله معاف کرے یہی سارے رنگ دپیکا کے اس گانے کی آرٹ ڈائریکشن میں استعمال ہوے تھے ... بہت مشکل تھا تماشائی ہوتے ہوۓ خود کو جھومنے سے روکنا مگر یہ وقت خاصا مشاھدے کا تھا سو اک سوچ آۓ اک جاۓ لیکن مجھے تو اتنے شدید شور میں جہاں ہر ٹرالے، ہر گاڑی اور ہر سواری پہ اپنا اپنا جھنکار مکس ترانہ یا نعت سبقت لینے کہ لیے تھا وہاں 

ترے ناں تے میرے سونیا وے

میرا دل دھڑکے - میرا دل دھڑکے

کا اک خاص ماحول تھا ... ابھی شام باقی ہے شام کا ماحول شام کے مطابق ہوگا 

رانگ برنگی پگڑیوں میں لپٹا ہوا ١٢ ربیع اول باقی ہے

2, Photographer's Statement

PHOTOGRAPHER'S STATEMENT Every image begins with an act of attention. My photographic practice has grown from a lifelong curiosity a...