مرضی

 ہمارے رویوں میں سفید  اور سیاہ کو سمجھنے یا اختیار کرنے کے دو طریقے رائج ہیں: ایک،  انکو اک دوجے کے مخالف سمجھنا اور دوجا انکو اک دوسرے کی پہچان سمجھنا

 ...

 ان میں سے کسی اک طریقے کو اختیار کرنا آپکی مرضی نہی کہلاتا، بلکہ یہ اپکا رویہ ہے جو دوسروں کے نظر میں آپکی مرضی کہلاتا ہے اور یہ رویوں کے خلیے، ایک سے دوسرے کو جنم دیتے ہیں. دوسروں پر آپکی مرضی نہی چلتی،  ہر کسی پر آپکو اپنی مرضی کرنے کا  اختیار بھی نہی ہوتا, گویا مرضی کا انحصار بھی رویے پر ہوتا
 ....

جب تک اپ سفید  اور سیاہ کو مقابلے میں دیکھیں گے یہ تقرار کا رویہ باقی رہتا اور جب بھی زندگی  میں اپ سفید و سیاہ کو اک دوجے کی پہچان بناتے ہو تو یہ رویہ زندگی کی  روانی بن جاتا
 ... 

2, Photographer's Statement

PHOTOGRAPHER'S STATEMENT Every image begins with an act of attention. My photographic practice has grown from a lifelong curiosity a...