دوسری میز
دوستو اگر آپکی گرل فرینڈ ذرا سے غصے میں آپکو یہ که دے "یار تم پاگل تو نہی ہو" تو آپکی جزوی عافیت اسی بات میں ہے کہ آپ مان جائیں ورنہ ماں صدقے جاۓ، ماں کے لال کےآج پھر ہجے بدلنے والے ہیں اور یہ کلام باشاعر نشر ہو جاۓ گا اور آپکی جزوی عافیت کُلّی طور پر واہ واہ کی نظر ہوجاۓ گی.
یاد رہے مانتے وقت آپکے چہرے پر ذرا سا بھی تمسخر نہ ہو، یہ قبولیت کا وقت اور ایسے وقت میں عاجزی ہونی چاہے ورنہ ریسٹورینٹ کی اس جنت، جسے آپ نے اپنی عملی حیثیت سے بڑھ کرمنتخب کیا ہے آج آپ اس جنت سے نکالے جانے کے واجب ہو جائیں گے اور الزام بیچاری عورت پہ ہی آے گا.
ذرا سے کھسیانی ہسی، میز پر پڑی چیزوں کو ذرا سے بہتر ترتیب دینا اور تعریفی تاثر دینا کافی سود مند ثابت ہو سکتا ہے، جو بھی کریں اپنی توجہ گرل فرینڈ کی طرف رکھیں، ہمہ تن گوش رہیں، ظاہری اور باطنی حاضر ...
اگر! مطلب اگر، آپکی نظر لمحہ بھر کو دوسری میز پر پڑ گئی تو وہاں بیٹھے صاحب کی آنکھوں میں ایک ہی لمحے میں آپ سمجھ جائیں گے کہ وہ سمجھ گۓ کہ آپکو ذرا بھی سمجھ نہی ہے اورآپ جو اس وقت اِدھراُدھر دیکھ رہے ہیں آپ واقعی پاگل ہیں. اور یہ ایک مرد کا دوسرے مرد کیلے خالص اخلاق اورایسی ناگہانی صورت میں بہترین ساتھ ہے، قبول کیجے ... جناب کیوں کہ آپ مرد ہیں آپکی نظردوسری میز پہ صاحب کے سامنے بیٹھی خاتون پہ جاے گی، وہ خاتون جو اپنے دو عدد بچوں کو کھانا کھلانے کے فرض کے ساتھ ساتھ آپکو بھی دیکھ رہی ہیں، مگر یہاں کھیل مختلف ہے کیوں کہ یہ خاتوں ہیں، آپ ایک ہی لمحے میں سمجھ جائیں گے کہ خاتون آپکی حامی ہیں انکو آپکے درد کا احساس ہے کیوں کہ آپ نا محرم ہیں گویا آپ معصوم بھی ہیں اور انکی آنکھوں میں آپکی گرل فرینڈ خوب ظالم اور نہایت خبطی ہے دراصل وہ آپکی فضول چوائس پر بات کر رہی ہیں، یہ آخری تاثر آپکی بھی خواہش بھی ہوسکتا ہے جو دوسری میز پہ بیٹھی خاتوں کے ناک نے آپکو واضح کر دیا ... یہ لمحہ کافی پر کیف گذرا اب پوری توجہ اپنی میز پہ واپس لے آئیں اور احتمال رہے یہ دوسری میز سے موصول ہونی والی معلومات اپنی میز پر باکل واضح نہ ہونے پائیں ... ورنہ یہ ثابت کر دے گا کہ یارآپ واقعی پاگل ہیں ...