اب کی بار آؤں تو رکھ لینا.
بار بار آتا ہوں، بار بار تم واپس بھیج دیتے ہو، اور میں سانس لینے والی مشین کے طرح شہروں میں شور مچاتا رہتا ہوں. نہ میں راضی نہ شہر والے.
پہاڑوں اتنی وسعت ہے تم میں تو مجھے رکھ کیوں نہی لیتے، اب کی بار آؤں تو جسم بھی رکھ لینا، ہمیشہ کیلے، تمہارے دامن میں وہاں جیسے جان پتھرا گئی, تھوڑی جگہ اس جسم کو بھی دے دینا.
تم ٹوٹننے اور ٹوٹ کر سر بلند ہونے کا ہنر سکھ چکے، تمہارے دامن میں اب بھی سرد آہیں سدا لگاتی ہیں، میں نے کئی صبحیں اور کئی راتیں ان سسکیوں کو سنا ہے، مظبوط وجود سے بچوں کا سا بلکنا سنا ہے، میں بھی تم سے یہ ہنر سیکھنا چاہتا ہوں. اتنا ٹوٹ کر ایسا سر بلند ہونا سیکھنا چاہتا ہوں.
اب کی بار آؤں تورکھ لینا.