خط

 خط  (۲۰۰۰، ۵، ۲)


کہاں ہو تم کہ ،  جو آشنا کہیں اوروں کو
محبت تم سے اور بے وفا کہیں اوروں کو

"میں تقسیم کے اس بے رحم اصل وصال سے آشنائی کے در پر کشکولِ جاں پھینکے دونوں ہاتھ زمیں پراسطرح پھیر راھا ھوں کے جیسے جانِ اطفال مادرِ پستان سے اپنی جاں فشانی کو تپتا ہوا لاوا ڈھونڈھ رہا ھو ، حقیقت ڈھونڈھ رھا ھوں۔
بہت دیر ہوئی آپکا خط موصول نہیں ھوا ، یہ اک یاد دہانی کا پہلو لیا اورآپکی مصروفیت پر دستک  پہ دستک ھے ، باھر نہیں آنا چاھتے اگر مسافر دَر پہ آیا کے لے تو چلے جانے کو کہا ھوتا۔ کل آفتاب کیساتھ پھر تیری صبح بن کر آؤنگا گر آج تیری قسمت میں نہیں تو کیا !
کچھ سوجھ نہیں رہا کہ اس کاغذ پر مزید مَن کی سیاہی کیا چھوڑوں کہ لکیرں ہیں ، قلم ہے اور تیری آج کی مچلتی ہوئی آتش بیاض میرے سامنے کُھلی پڑی ہے۔
جواب کا منتظر بند دروازے کی بلائیں لیکر لوٹ رہا ھے".

2, Photographer's Statement

PHOTOGRAPHER'S STATEMENT Every image begins with an act of attention. My photographic practice has grown from a lifelong curiosity a...