لاھور نامہ


٢٠١٦ سے پہلے سموگ کا لفظ کم از کم میں نے نہیں سنا تھا اور جب سنا تب تک اتنی دیر ہو چکی تھی کہ حلق سے پھیپھڑوں تک گونج سنائی دی۔
لاھور اور گردونواح کی آج کی منہ دھانپتی اور آنکھیں بند کرتی اس تصویر کے ہم سب ذمہ دار ہیں، سب کو مسئلہ ہے، یہ سب کو لاحق ہے اور سب کچھ نہیں کر رھے، سب پتہ نہیں کس کے منتظر ہیں۔
صاحبِ حرب سکول بند کردیتے ہیں، بازار بند کروا دیتے ہیں، نقل و حرکت بند کرنے کی کوشش کرتے ہیں. یہ سب بے سود ہے، سب بیکار ہے۔ بنا کسی مثبت پیش رفت کے کوئی رکاوٹ والا لائحہ عمل کسی مسئلے کا حل ہو ہی نہیں سکتا۔ گویا ان میں ایسے مسئلوں کو حل کرنے کی اہلیت ہی نہیں، گلیاں، سڑکیں، پل، انڈر پاس، نالیاں اور لہلہاتے کھیتوں پہ مزید رہائشی منصوبوں کے پرمٹ بس یہی انکی اہلیت اور دکھ کی بات کہ یہی اس شہر کے مکینوں کی فریادیں۔
سکول، کالج اور بازار بند کرنا اک وقتی حل تو ہو سکتا ہے مگر کیا ہی اچھا ہو اگر لوگ خاص طور پہ طلباء اور طالبعلموں کو شامل کرکے علامتی ماتم کیلئے ماسک لگوا کر ہر سال شہر بھر میں اپنے اپنے حصے کے درخت لگانے کا عمل شروع کیا جائے، انکی حفاظت کی جائے اور مقامی درختوں کو پھر سے تہذیب کا حصہ بنایا اور سمجھا جائے۔
نا ممکن تو نہیں مگر ہاں یہ نہایت مشکل ہے کیونکہ ایسا تو شہری لوگ اکثر اپنی فیملیز کیلئے نہیں سوچ پاتے کہ بچوں کو ساتھ لیں اور سالانہ اس مشق کو رواج بنائیں۔
اپنے مزھبی، سماجی اور قومی تہواروں خاص طور پہ بہت پسندیدہ عمل شادیاں کرنے اور پھر بچوں کے پیدا ہونے پہ درخت لگا کر انکا استقبال کریں، اپنی سالگرہ ہر سال درخت لگائیں۔ انکو بچوں کیطرح بچوں کیلئے ہی پروان چڑھائیں۔
ایسی روایات پڑھے لکھے لوگوں سے رائج ہو سکتی ہے، مگر کئی ایسے لوگوں بھی موجود ہیں جو سموگ بھری آنکھیں ملتے ملتے درخت لگانا مذاق گردانتے ہیں اور اپنا ہاتھ آسمان تک لے جاکر کہتے ہیں، درخت تو بہت ہیں اس دنیا میں، فن لینڈ اور امازون کے گھنے جنگلوں کو انسانی تعداد سے ضرب تقسیم شروع کر دیتے ہیں ایسی لوگوں کی بے نور جڑوں کو کیسے شعور کا پانی دیا جائے یہ بھی خاصہ مشکل کام ہے اس سے بھی زیادہ عجیب بات، یہی لوگ، عام فہم لوگوں کو گوار اور جہالت کے سرٹیفکیٹ بانٹتے رھتے ہیں۔
سب ذمہ دار ہیں، سب اس مسئلے سے لاحق ہیں اور سب کو اپنے اپنے حصے کا نا صرف سوچنا ہے بلکہ حل بھی کرنا ہے۔

2, Photographer's Statement

PHOTOGRAPHER'S STATEMENT Every image begins with an act of attention. My photographic practice has grown from a lifelong curiosity a...