شہروں میں ہونے والی صبحوں کا کچھ ستر فیصد، بے وقت سونے اور جاگنے کی عادات کی وجہ سے، ستارہِ سحری کی یہ چمک اور رات کے کُفر سے باہر نکلنے کی یہ اُفقی دلیل ہم میں سے اکثر نہیں دیکھ پاتے جبکہ دیہی زندگی ہو یا ایامِ سیاحت شاموں کے ڈھلنے اور سحر کے طاری ہونے کا عمل جیسے اجر بن کر ملتا ہے۔
یہ اسباق رٹّے نہیں جاتے اسی لئے قدرت انہی خُد دھراتی رھتی ہے اور یہ آدابِ وقت اسلوبِ آگہی بن کر ہماری روح کی تربیت کرتے رھتے ہیں اور انکو اپنانے کیلئے اب تو لگتا ہے کی بس دو ہی طریقے ہیں یا تو شہری عادات بدل لیں جو اب تک تو ناممکن رھا ہے اور یا پھر شہروں سے سنیاس لے لیا جائے جو ہمیشہ اولین ترجیح پہ رھا اور سود مند بھی۔۔۔
