کاربن روڈ سائیڈ آرٹس

 کوئلے سے ہیرا بننے کا عمل دیرپا، صبر اور سبق آموز ہے، ہیرے کی شناخت سیاہ و سفید کے بیچ کی اک وہ دلیل ہے جو کان کن کی لگن اور انتھک محنت سے جنم لیتی ہے اور پھر کہیں، کان کن اپنے اس اثاثے کو ماہر سنگ تراش کے پاس لاتا ہے جسے وہ اپنی پیشہ ورانہ صلاحتو ں سے ایسا تراشتا ہے کہ ہیرے کو اسکی ساخت اور شناخت میں پنہاں وہ تمام زاوے مل جاتے ہیں کہ زمان و مکان میں اسکو حقیقی منزل مل جاتی ہے اور دنیا اسکی قدرو منزلت پہ رشک کرتی ہیں۔


بالکل ایسے ہی فرض کی ادائیگی کی لگن میں والدین اور اساتذہ بچے کے کردار میں پنہاں اسکی صلاحیتوں کو نا صرف جاننے کی کوشش کرتے ہںی بلکہ اسے مزید مؤثر بنانے کیلئے اپنی فکر اور پیشہ ورانہ صلاحتو ں کو بروئےکار لا کر اسے عصرِ حاضر کے سامنے پشی بھی کرتے ہں ۔


روح اور جسم کے بچے پوشیده اور پاکیزہ اسکے خواص اور زات کے افکار کو روشناس کرواتے ہیں اور یوں معاشرے کے آنے والے کل کی صبح متعین ہوتی ہے۔


گویا روشنی کے منکشف ہونے کی حقیقت اور ہر ہیرے کی خاصیت کو مانتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اختیار کی صفات رکھتے ہر سفدے ہیرے میں جو بھی رنگ ہیں وہ سب اسکے ارد گرد کے رنگ ہیں اور یہی کسی بھی قائم ماحول کے اثر کا ثبوت اور یہی بچوں کی تربیت کی دليل ہے۔

اسی سوال و جواب کا نام ہے کاربن روڈ سائڈی آرٹس۔


گزشتہ نو سال سے پاکستان کے دیہی علاقوں میں ویول آرٹس کی یہ پہلی اور منفرد تحریک ہے جو بچوں میں موجود انکی قدرتی تخلیقی صلاحیتوں کو جاننے، انکو بڑھانے اور اسی عمل سے گزرتے انکی سوچ اور انکے ارد گرد کے ماحول سے انکا ربط بڑھانے میں کوشاں ہے۔


گزشتہ کئی سالوں کی طرح اس سال۲۰۲۲ بھی جون سے اگست تک گلگت بلتستان کے مختلف اضلاع بلترتیب گزر، نگر، ھنزا، گوجال، کھرمنگ اور کھنچھے کی کئی وادیوں کے اسکولوں کے بچوں نے کاربن روڈ سائڈ آرٹس کی فکری اور تخلیقی سرگرمیوں میں حصہ لیا۔


دن کا آغاز سکول میں دعا اور پاکستان کے قومی ترانے سے ہوتا اور اسکے بعد تصویری نمائش کا آغاز ، ان تصویروں میں موجود پاکستان کے مختلف علاقوں کے بچوں کی کہاناں جن میں سکول جانے والے بچے اور سکول نا جا سکنے والے بچوں شامل ہیں ، یہ تصویری کہانیاں سکولوں میں موجود بچوں میں کئی طرح کے معاشرتی پہلوؤں کو سمجھنے کا موقع دیتی، ٹریولر اور فوٹوگرافر ظہیر چوھدری کی چالیس سے زائد، محض بلیک اینڈ وائٹ پورٹریٹ زندگی کے ھزاروں رنگین پہلوؤں کو بچوں کی خوبصورت خوابوں کی دنیاؤں میں کچھ اس طرح سے اثر کرتیں کہ جیسے تصویر نہیں کوئی ٹائم مشین ہو اور باصر یوں نئے افق پہ نکل جائے۔


چائیلڈ لیبر کا لیبل لئیے ورکشاپوں، ہوٹلوں اور مزدوری کرتے بچے اور سکول کی وردی میں ماں کے ہاتھوں سنورے بال بنائے ہوئے بچوں کے پورٹریٹ جب اک ساتھ سکولوں کی کھلی جگہوں پہ اک سادہ سے تار پہ باندھ کر نمائش بنتی تو اپنے ماحول سے جڑا بچوں اور بڑوں کا ذہن وہی کھڑے کھڑے فوٹوگرافر کے ساتھ وقت کی مسافت پہ نکل جاتا ہے۔


مشاہدہ اور مشق" "

یہ دو پہلوؤں کو ملحوظ رکھ کر تیسری جماعت سے پانچویں اور چھٹی جماعت سے آٹھویں جماعت کے بچوں کیلئے منصوب اک ڈرائینگ ورکشاپ کا آغاز ہوتا جس میں زبانوں کے بولنے، انکے لکھے جانے اور کسی بھی انسان کی پیدائش سے ہی اسکے دیکھنے اور مشاہدہ کرنے کے عمل سے جڑی عادات اور ذہنوں پہ قائم ہوتے نقوش کو شعور سے زبان اور پھر کورے کاغذ پہ لکیروں کی زبان تک لایا جاتا اور یہ عمل اتنا آسان، دلچسپ اور محو کر دینے والا ہوتا کہ محض مختصر وقت میں ہی دیہی علاقوں کے بچے جو اپنی زندگی میں پہلی باقاعدہ ویول آرٹسٹ کی کسی کلاس کا حصہ بن رھے، وہ انتہائی آسانی کے ساتھ اپنے خوابوں خیالوں سے ڈرائینگ کی زبان تک سفید کورے اے فور پپرز پہ اپنی فطری تخلی صلاحیتوں کو دکھانا شروع کر دیتے۔ دو سے تين گھنٹے اور تیس سے چالس بچوں کی یہ کلاس اپنی روایتی تعلیم سے ہٹ کر کئی نئے افق بننے لگتے۔


سکریننگ یا فلم اور ڈاکومنٹری، اس ملٹی میڈیا کے دور حاضر میں علم جدید کے طور پہ با اثر ہے مگر پاکستان میں روائیتی طرز تعلیمی نظام میں ابھی تک اس کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدام نہیں لایا جا رھا۔


دیہی علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ کے آنے کیبعد اس میڈیا سے لوگوں کو تعلیم اور شعور دینا بہت آسان اور با اثر ہے اسی بات کو ملحوظ رکھتے ہوئے ویول آرٹ کی تعلیم اور انٹرٹینمنٹ ہر عمر کے لوگوں تک پہنچانے کیلئے کاربن روڈ سائیڈ آرٹس، فلم پروجکشن کا انعقاد بھی کرتا ہے اور گاؤں کے بچے اور بڑے ایک ساتھ فلم یا کوئی ڈاکومنٹری دیکھتے ہوئے یوں باقی دنیا کے ساتھ ساتھ خود کو بھی جاننے کے اس عمل سے گزارتے ہیں جو نا صرف دیہی علاقوں کے لوگوں کا بنیادی حق ہے بلکہ اس جدید طرز تعلیم کو سمجھنے کی بھرپور صلاحت بھی رکھتے ہیں۔


اڈیشنل چیف سیکریٹری گلگت بلتستان جناب عزیز احمد جمالی صاحب جو تعلم اور صحت پہ وسعت اور مثبت خيالی رکھنے کے ساتھ ساتھ عملی تجربہ بھی رکھتے ہیں، انہوں نے بلوچستان کے دور افتاده علاقوں میں بھی تعلیم اور صحت پہ اپنی کوششوں سے کئی اک عملی اقدامات اٹھائے اور وہ تمام اقدامات آج بھی اپنی مثال آپ ہیں کہ جسکے ثمرات آج بھی بلوچستان کی عوام تک پہنچ رھے ہیں۔


اس سال انکی گلگت بلتستان میں تعیناتی گلکت بلتستان خاص باالخصوص دور افتادہ علاقوں کے لوگوں کی خوش قسمتی ہے اور یہی وہ سوچ، منصوبہ بندی‌ اور عمل کا مقام تھا جو انہوں نے کاربن روڈ سائڈ آرٹس کے ڈائریکٹر، ویول اکیٹیوسٹ اور آرٹسٹ ظہیر چوہدری کو گلگت بلتستان میں مزید آرٹس ایکٹیوٹیز کیلئے بلایا اور اس بار اسکا دائرہ کار مزید وسعي کرتے ہوئے خاص طور پہ گلگت غزر میں اشکومن اور بلتستان میں، کھرمنگ اور کھنچھے کے اضلاع میں دور تک قائم سرکاری سکولوں میں بچوں اور بچیوں کی روائیتی تعلیم کیساتھ ساتھ انکی فطری تخلیقی صلاحیتوں کو جانچنے اور اس پروجکٹ کو اک پائیلٹ ٹسٹ رن کے طور پر دور افتادہ علاقوں تک پھلاکیا۔


یوں ۲۰ جون ۲۰۲۲ کو برمس گلگت میں قائم يتيم بچوں کے ایک منفرد اسکول بابل العلم سے اس کا بابرکت آغاز ہوا اور آخری سیشن کا انعقاد مدینہ اھل بیت ماڈل سکول سکردو میں ہوا، یوں تقريبا ساٹھ دن تک پاکستان میں ویول آرٹ کی تعلیم کا یہ منفرد پروگرام جو خاص طور پہ دیہی بچوں کیلئے تھا ٣١ اگست ٢٠٢٢ کو اپنے سمر سیشن کے اختتام کو پہنچا۔


اس وقت کے سیکریٹری محکمہ تعلیم گلگت بلتستان جناب ضمیر عباس صاحب نے اے، سی، ایس، جی بی جمالی صاحب کے اس پروگرام کو عملی جامہ پہنایا اور محکمہ تعلیم کو اس عملی تعلیم کیلئے متحرک بھی کیا۔


پراجیکٹ کاربن روڈ سائیڈ آرٹس جسے ظہیر چوھدری خود چلا رھے تھے اس پروگرام کے ساٹھ سے زائد دنوں کے دورانئے میں ۲۵۰۰ سے زائد طلبہ اور طالبات نے مشاہدہ کو بنیاد بناتے ہوئے ڈرائینگ ورکشاپ میں بھر پور حصہ لیا اور ڈرائینگ کے تمام بنیادی قاعدوں کو نا صرف جانا بلکہ اسکی عملی مشقیں بھی کیں۔


اسکولز میں کاربن روڈ سائیڈ آرٹس کی دوسری کاوش ان تاریخی وادیوں کی انکی تاریخ میں ہونی والی پہلی با قاعدہ تصویری نمائشوں کا انعقاد تھا جو بچوں کیلئے کسی آرٹ فیسٹیول سے کبھی کم کا نہیں رھا۔

گلگت بلتستان میں موبائل فون کا بڑھتا ہوا رجحان اور سیاحتی مقامات پہ سیاحوں کی بھر پور آمد نے عکس کاری اور تصویری کہانی کے رجحان کو بھی بڑھایا ہے کاربن روڈ سائڈ آرٹس کی تصویری نمائشوں نے بچوں میں مشاہدہ اور عکس کاری دونوں کو ہی فروغ دیا پاکستان بھر کے بچوں کی تصاویری کہانیوں نے خوب نا صرف داد پائی مگر اس تہذیی اور ثقافتی اقدار سے لیس پاکستان کے مختلف علاقوں کے بچوں کو بھی اک دوسرے کو جاننے کی فن کی بھی تربیت پائی اور یہ سب اک تصویر کی اہمیت اور اسکی بصری قوت کے بدولت تھا اور یہی ویول آرٹس کا رجحان برھانا اور بچوں میں انکے تعلیم معیار کو بڑھانا مقصد تھا تاکہ وہ دور حاضر میں جب اگے بڑھیں تو انکو نئے تقاضوں کی بھی خبر اور مہارت ہو۔


اسی سلسلے کو اگے بڑھانے کا اک سلسلے دسویں جماعت کے اسٹوڈنٹس سے غیر رسمی بات چیت کے ذریعے سے انکے آئندہ انے والے سالوں میں انکی تعلیمی آپشنز کو بڑھانے کیلئے فائن آرٹس، ڈیزائن، ملٹی مڈییا، آرکیٹیکچر اور دوسرے علوم پہ بات ہوتی اور انکو انکے اپنے شوق اور رجحانات کو آگے لانے اور انکے حوصلے کو بڑھانے کی بات ہوتی۔


اے، سی، ایس، جی، بی جمالی صاحب کے خاص توجہ دلانے پہ گذر میں نوجوانوں بڑھتے ہوئے خودکشی کے واقعات کو دسویں کے بچوں سے انکے تعلیمی مسائل پہ بات چیت ہوئی جسکا مقصد انکو زندگی کی اہمیت اسکی خوبصورتی اور مختلف اسباب کو جاننا اور مواقع تلاش کرنا تھا تاکہ ہمارے یہ معمار اپنی اہمیت اور صلاحیتوں کو پہچان سکیں۔


خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس مقررہ مدت میں کُل 108 سيشنز ہوئے، جس میں ڈرائینگ ورکشاپس جو کہ کبھی کلاس رومز، ھالز اور کبھی سکولز کے برآمدوں میں ہوئیں جسمیں 2500 سے زائید بچوں نے ڈرائینگ کی بنیادی تعلیم اور اپنے اطراف کی دنیا کی بناوٹ کو اس سے جوڑنا اور سمجھنا سیکھا، ہماری خوش قسمتی کہ ان علاقوں میں سے بیشتر سے بھی زیادہ جگہوں کے بچوں کیلئے یہ پہلی باقاعدہ آرٹ کلاسز تھی۔

فوٹوگرافی نمائش جنکا انعقاد میدانوں، برآمدوں اور کھلی جگہوں پہ ہوا اور الحمدللہ 10000 سے زائید بچوں اور بڑوں نے ان تصویری نمائشوں کو دیکھا اور پھر سے یہ کہنا اور فخر کرنا پڑے گا کہ لوگوں کی اکثریت نے اپنی زندگی کی پہلی باقاعدہ تصویری نمائش کو دیکھا اور تصویر پہ بات کی۔


اور ماہ محرم سے پہلے ہم نے کچھ علاقوں میں شام ڈھلے بچوں اور بڑوں کیلئے سینما کا بھی اہتمام کیا۔


تصویر جو لمحوں کو قید نہیں بلکہ انہیں محفوظ کرنے کا نام ہے جسکی من پہ پرچھائی یاد کی روشنی سے مزین رھتی۔ ان تمام محفوظ لمحوں میں بچوں کی آوازیں انکی شرارتیں، انکے نا ختم ہونے والے سوالوں کے سلسلے کا شروع ہونا ہماری ترجیحات میں اک خاص تھا۔


کوئی بھی خیال عمل کی چادر اڑھ ہی نہیں پاتا جب تک لگن، کوشش اور دلچسپی اسکا ماخز نا بنے، کاربن روڈ سائیڈ آرٹس کے ہر سیشن کو اپکی توجہ اور رہنمائی نے مکمل اور کامیاب کیا، بچوں کی آنکھوں میں سوالوں کے تاک کُھلے اور جوابوں کو چمک عطا ہوئی اور یہ سب ہم نے مل کر کیا اس کوشش کا کوئی اختتام نہیں کیونکہ یہ افق پہ پہلی کرن تھی۔


ضلعی انتظامیہ، محکمہ تعلیم کے تمام سربراہان اور اساتذہ کا نہایت شکریہ اور سب سے بڑھ کر بلند ارادوں کے بیچ بسنے والے ذہین اور تخلیقی صلاحیتوں سے مالامال بچوں کا شکریہ جنہوں ہمارے اندر انکے لئے فکر کی نئی راہیں متعین کرنے میں ہم سب کو مامور کیا۔

آپ سب کا شکریہ

ظہیر چوہدری

ویول آرٹسٹ ایکٹیوسٹ

ڈائریکٹر پروگرام

2, Photographer's Statement

PHOTOGRAPHER'S STATEMENT Every image begins with an act of attention. My photographic practice has grown from a lifelong curiosity a...